ابنا: ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سینئر نائب صدر علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ حکمران ملک میں امن و امان کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ آئے روز کوئٹہ اور کراچی میں معصوم لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگ صرف مذمتی بیانوں تک محدود رہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار علامہ سید ساجد علی نقوی نے گذشتہ روز کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے 3 افراد اور کراچی میں عمران عباس کی شہادت پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔
سربراہ شیعہ علماء کونسل نے کہا کہ عوام کی جان ومال کی حفاظت حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے جو حکومت پوری نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے دلخراش واقعات کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتیں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں اُٹھا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی صرف اور صرف اسی صورت رک سکتی ہے جب دہشتگردوں کو تختہ دار پر لٹکایا جائے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گذشتہ کافی عرصے سے عدالتوں کی طرف سے سزایافتہ مجرموں کی فائلیں صدر آصف علی زرداری کی میز پر پڑی ہیں، مگر ان پر عملددرآمد میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، جب تک دہشتگردوں کو ان کے سرپرستوں سمیت بے نقاب کرکے تختہ دار پر نہیں لٹکایا جاتا، اس وقت تک ملک میں پائیدار امن کی ضمانت نہیں دی جاسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے جرات مندانہ اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
.......
/169